Header Ads

ad

Islamic Articles

Seo Services

جنت اور جہنم کے متعلق مفید سوالات

4:27 AM
کیا آپ ان سات سوالوں کے جواب جانتے ہیں؟


سوال نمبر1
جنت کہاں ہے؟
جواب:
جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ساتوں آسمانوں سے جدا ہے،
کیونکہ ساتوں آسمان قیامت کے وقت فنا اور ختم ہونے والے ہیں،
جبکہ جنت کو فنا نہیں ہے،
وہ ہمیشہ رہے گی،
جنت کی چهت عرش رحمن ہے.


سوال نمبر 2:
جہنم کہاں ہے؟
جواب:
جہنم ساتوں زمین کے نیچے ایسی جگہ ہے
جس کا نام "سجین" ہے.
جہنم جنت کے بازو میں نہیں ہے،جیسا کہ بعض لوگ سوچتے ہیں.
جس زمین پر ہم رہتے ہیں
یہ پہلی زمین ہے،
اس کے علاوہ چھ زمینیں اور ہیں
جو ہماری زمین کے نیچے ہماری زمین سے علیحدہ اور جدا ہیں.


سوال نمبر 3:
سدر ة المنتهی کیا ہے؟
جواب:
سدرة عربی میں بیری /اور بیری کے درخت کو کہتے ہیں،
المنتہی یعنی آخری حد،
یہ بیری کا درخت وہ آخری مقام ہے
جو مخلوقات کی حد ہے.
اس سے آگے حضرت جبرئیل بهی نہیں جا پاتے ہیں.
سدرة المنتهی ایک عظیم الشان درخت ہے،
اس کی جڑیں چهٹے آسمان میں
اور اونچائیاں ساتویں آسمان سے بھی بلند ہیں،
اس کے پتے ہاتهی کے کان جتنے
اور پهل بڑے گهڑے جیسے ہیں،
اس پر سنہری تتلیاں منڈلاتی ہیں ،
یہ درخت جنت سے باہر ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو اسی درخت کے پاس ان کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا تها،
جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں پہلی مرتبہ اپنی اصل صورت میں مکہ مکرمہ میں مقام اجیاد پر دیکها تها.


سوال نمبر 4:
حورعین کون ہیں؟
جواب:
حور عین جنت میں مومنین کی بیویاں ہوں گی،
یہ نہ انسان ہیں نہ جن ہیں اور نہ ہی فرشتہ ہیں،
اللہ تعالیٰ نے انہیں مستقل پیدا کیا ہے،
یہ اتنی خوبصورت ہیں کہ اگر دنیا میں ان میں سے کسی ایک کی محض جھلک دکھائی دے جائے،
تو مشرق اور مغرب کے درمیان روشنی ہو جائے.
حور عربی زبان کا لفظ ہے ،
اور حوراء کی جمع ہے،
اس کے معنی ایسی آنکھ جس کی پتلیاں نہایت سیاه ہوں اور اس کے اطراف نہایت سفید ہوں.
اور عین عربی میں عیناء کی جمع ہے
اس کے معنی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی.


سوال 5:
ولدان مخلدون کون ہیں؟
جواب:
یہ اہل جنت کے خادم ہیں،
یہ بهی انسان یا جن یا فرشتے نہیں ہیں،
انہیں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی خدمت کے لئے مستقل پیدا کیا ہے،
یہ ہمیشہ ایک ہی عمر کے یعنی بچے ہی رہیں گے،
اس لیے انہیں "الولدان المخلدون" کہا جاتا ہے.
سب سے کم درجہ کے جنتی کو
دس ہزار ولدان مخلدون عطا ہوں گے.


سوال نمبر 6:
اعراف کیا ہے؟
جواب:
جنت کی چوڑی فصیل کو اعراف کہتے ہیں.
اس پر وہ لوگ ہوں گے
جن کے نیک اعمال اور برائیاں دونوں برابر ہوں گی،
ایک لمبے عرصہ تک وہ اس پر رہیں گے
اور اللہ سے امید رکهیں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جنت میں داخل کردے.
انہیں وہاں بهی کهانے پینے کے لیے دیا جائے گا،
پهر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جنت میں داخل کردےگا.


سوال نمبر 7:
قیامت کے دن کی مقدار اور لمبائی کتنی ہے؟
جواب:
پچاس ہزار سال كے برابر.

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
*تعرج الملئكة و الروح اليه في يوم كان مقداره خمسين الف سنة.*

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
"قیامت کے پچاس موقف ہیں، اور ہر موقف ایک ہزار سال کا ہو گا."

جب آیت
*"یوم تبدل الأرض غیر الأرض و السماوات"*
نازل ہوئی
تو
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ
"یا رسول اللہ جب یہ زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے تب ہم کہاں ہوں گے"؟

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

"تب ہم پل صراط پر ہوں گے.
پل صراط پر سے جب گزر ہوگا
اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی
1.جہنم
2.جنت
3.پل صراط"


رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
"سب سے پہلے میں اور میرے امتی پل صراط کو طے کریں گے."



*پل صراط کی تفصیل*

قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دئے جائیں گے
اور پل صراط پر سے گزرنا ہوگا
وہاں صرف دو مقامات ہوں گے
جنت اور جہنم.


جنت تک پہنچنے کے لیے
لازما جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا.

جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا،
اسی کا نام" الصراط "ہے،
اس سے گزر کر جب اس کے پار پہنچیں گے
وہاں جنت کا دروازہ ہوگا،
وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہوں گے
اور اہل جنت کا استقبال کریں گے.


یہ پل صراط درج ذیل صفات کا حامل ہو گا:

1- بال سے زیادہ باریک ہوگا.

2- تلوار سے زیادہ تیز ہو گا.

3- سخت اندھیرے میں ہوگا،
اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بهی نہایت تاریکی میں ہوگی.,
سخت بپهری ہوئی اور غضبناک ہوگی.

4- گناہ گار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کی پیٹھ پر ہوں گے،
اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے
تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو گی،
اللہ تعالیٰ ہمیں اس صورت سے اپنی پناہ میں رکھے.
اور جو شخص گناہوں سے ہلکا ہوگا
تو اس کی رفتار پل صراط پر تیز ہوگی.

5- اس پل کے اوپر آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے
اور نیچے کانٹے لگے ہوں گے
جو قدموں کو زخمی کرکے اسے متاثر کریں گے.
لوگ اپنی بد اعمالیوں کے لحاظ سے اس سے متاثر ہوں گے.

6- جن لوگوں کی بے ایمانی اور بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے پیر پهسل کر وہ جہنم کے گڑهے میں گر رہے ہوں گے
ان کی بلند چیخ پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہو گی.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پل صراط کی دوسری جانب جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے،

جب تم پل صراط پر پہلا قدم رکھ رہے ہوگے
آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہیں گے"
یا رب سلم، یا رب سلم"

آپ بهی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے درود پڑهئے:
اللهم صل وسلم على الحبيب محمد.
لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سوں کو پل صراط سے گرتا ہوا دیکھیں گے
اور بہت سوں کو دیکھیں گے
کہ وہ اس سے نجات پا گئے ہیں.
بندہ اپنے والدین کو پل صراط پر دیکهے گا
لیکن ان کی کوئی فکر نہیں کرےگا،
وہاں تو بس ایک ہی فکر ہو گی کہ کسی طرح خود پار ہو جائے.

روایت میں ہے کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قیامت کو یاد کر کے رونے لگیں،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا:
عائشہ کیا بات ہے؟

حضرت عائشہ نے فرمایا: مجهے قیامت یاد آگئی،
یا رسول اللہ کیا ہم وہاں اپنے والدین کو یاد رکهیں گے؟
کیا وہاں ہم اپنے محبوب لوگوں کو یاد رکھیں گے؟

آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ہاں یاد رکھیں گے،
لیکن وہاں تین مقامات ایسے ہوں گے
جہاں کوئی یاد نہیں رہے گا
.(1) جب کسی کے اعمال تولے جائیں گے
(2) جب نامہ اعمال دیئے جائیں گے
 (3) جب پل صراط پر ہوں گے.


دنیاوی فتنوں کے مقابلے میں حق پر جمے رہو.
دنیاوی فتنے تو سراب ہیں.
ان کے مقابلہ میں ہمیں مجاہدہ کرنا چاہیے،
اور ہر ایک کو دوسرے کی جنت حاصل کرنے پر مدد کرنا چاہئے
جس کی وسعت آسمانوں اور زمین سے بهی بڑهی ہوئی ہے.

اس پیغام کو آگے بڑهاتے ہوئے صدقہ جاریہ کی نیت کرنا نہ بهولیں.

 *یا اللہ ہمیں ان خوش نصیبوں میں کردیجئے
جو پل صراط کو آسانی سے پار کر لیں گے.*

اے پروردگار ہمارے لئے حسن خاتمہ کا فیصلہ فرمائیے. آمین


اس تفصیل کے بعد بھی کیا گمان ہے کہ
وہاں کوئی رشتہ داریاں نبھائے گا،
جس کے لئے تم یہاں اپنے اعمال برباد کر رہے ہو؟

مخلوق کے بجائے خالق کی فکر کرو.
اپنے نفس کی فکر کرو
کتنی عمر گزر چکی ہے اور کتنی باقی ہے
کیا اب بهی لا پرواہی اور عیش کی گنجائش ہے؟


اس پیغام کو دوسروں تک بهی پہنچائیں.

یااللہ اس تحریر کو میری جانب سے بهی اور جو بهی اس کو عام کرنے میں مدد کرے سب کے لئے اس کو صدقہ جاریہ بنادیجئے آمین.

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎۔۔
جنت اور جہنم کے متعلق مفید سوالات جنت اور جہنم کے متعلق مفید سوالات Reviewed by Unknown on 4:27 AM Rating: 5

مصافحہ ایک ہاتھ سے یا دونوں ہاتھوں سے

10:25 PM

﴿مُبشر احمد‘ رَبّاَنی﴾
ہمارے ہاں رواج ہے کہ لوگ ملاقات کے وقت دو ہاتھ سے مصافحہ کرتے ہیں ۔ہمیں ایک دوست نے بتایا کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے کرنا چاہئے یہی سنت ہے ۔لہٰذا آپ ہماری کتاب وسنت کی رو سے راہنمائی کریں ۔
ایک مُسلمان جب دوسرے مُسلمان سے ملاقات کرے تو ان دونوں کو آپس میں دائیں ہاتھ سے مصافحہ کرنا چاہئے اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔
حدیث میں ہے:
”براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں ‘مصافحہ کرتے ہیں تو جدا ہونے سے قبل ان کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔“
لہٰذا جو عمل اتنی اہمیت کا حامل ہو اور اتنے فضائل والا ہو‘اس کو صحیح سنت کے مطابق ادا کریں گے تو یہ اجر ملے گا۔
اگر خلاف سنت عمل کریں گے تو اجر برباد ہو گا۔
مصافحہ کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ ایک مُسلمان دوسرے مسلمان سے ملاقات کرتے وقت دائیں ہاتھ کے ساتھ مصافحہ کرے ۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا یہی معمول تھا ۔اس ضمن میں بہت سی احادیث ہیں چند ایک ملاحظہ فرمائیں ۔
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ملاقات کی اور میں ا جنبی تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا (ایک نسخہ میں ہے کہ میرا دایاں ہاتھ پکڑا )پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے پس میں کھسک گیا“۔
”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حا لتِ جنابت میں ملاقات کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا۔میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور کہا میں ا جنبی ہوں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (سبحان اللہ )مسلم نجس نہیں ہوتا“۔
یہ حدیث ایک ہاتھ کے مصافحہ پر نص قطعی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملاقات کے وقت مصافحہ کے لیے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اور صحابی رسول سیّد نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ایک ہاتھ جو مصافحہ کے لیے بڑھانا تھا پیچھے کھینچا اور عذر پیش کیا کہ میں اجنبی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ مسلم نجس نہیں ہوتا۔

”عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم لوگ میری اس ہتھیلی کو دیکھتے ہو میں نے اس ہتھیلی کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھا ہے “۔
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرے ۔کیا اس کے لیے جھکے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! نہیں ۔
اُ س نے کہا ‘کیا اس سے چمٹ جائے ؟اور اس کو بوسہ دے ؟فرمایا نہیں پھر اُس نے کہا‘کیا اس کا ہاتھ پکڑ ے اورمصافحہ کرے ؟فرمایا ! ہاں ۔امام ترمذی نے فرمایا ‘یہ حدیث حسن ہے “۔
علامہ البانی نے متعدد طرق کی بنا پر اس حدیث کو سلسلة الاحادیث الصحیحہ ۱/۸۸ پر درج کیا ہے ۔تا ہم اس حدیث سے معانقے کی ممانعت نہیں نکلتی جو کہ چھٹ کر ملنے سے مختلف ہے ۔

”انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو مُسلمان آپس میں ملتے ہیں اور ان کی دعاؤں میں موجود رہے اور ان کے ہاتھ علیحدہ ہونے سے پہلے ان کو بخش دے۔“
مذکورہ بالا پانچ احادیث سے معلوم ہوا کہ مصافحہ ایک ہاتھ کے ساتھ کرنا سنت ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی تعلیم دیتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اسی سنت پر عامل تھے ۔
ویسے مصافحہ کے معنی میں بھی یہ بات شامل ہے کہ ہتھیلی کے ساتھ ملایا جائے جیسا کہ امام بن اثیر جزری النہایہ فی غریب الحدیث والا ثرص ۳/۴۳پر رقم طراز ہیں :
”صفح لفظ سے ملاقات کے بعد مصافحہ کی حدیث بھی ہے مصافحہ باب مفاعلہ سے بطن ہتھیلی سے ملانا ہے 
“۔
مصافحہ کا یہی معنی لغت کی کتب قاموس تاج العروس وغیرہ میں منقول ہے ۔
لہٰذا مصافحہ کی جو تعریف ہے وہ بھی اہل حدیث کے مصافحہ پر پوری طرح صادق آتی ہے اور جو مصافحہ احناف کے ہاں رائج ہے ‘اس پر یہ تعریف صادق نہیں آتی ۔بعض لوگ دونوں ہاتھوں کے ساتھ مصافحہ کرنے کی یہ حدیث پیش کرتے ہیں :
”ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا کہ میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں تھا “۔

۱) اس حدیث کا ملاقات کے وقت مصافحہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تشہد سکھا رہے تھے اور تعلیم کے وقت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہاتھوں کے درمیان تھا۔اگر اس کو مصافحہ ملاقات پر محمول کریں تو اس کی صورت یہ بنے گی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہاتھوں میں ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ تھا یعنی تین ہاتھ کا مصافحہ۔

جس طرح کسی اہل حدیث کا حنفی حضرات سے مصافحہ ہوتو حنفی کے دو ہاتھ ہوتے ہیں اور اہل حدیث کا ایک ہاتھ اور حنفی بھائی اس مصافحہ کو نا پسند کرتے ہیں ۔ان مقلدین بھائیوں پر سخت تعجب ہے کہ جو مصافحہ یعنی چار ہاتھوں کا ثابت ہے وہ انہیں پسند نہیں اور جو مصافحہ یعنی چار ہاتھوں کا ثابت نہیں اس پر اصرار کرتے ہیں۔ اس حدیث سے قطعاً یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے دو ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ہاتھوں سے ملے ہوئے تھے ۔

اگر بفرضِ محال ا س حدیث کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ دونوں طرف سے دونوں ہاتھوں کا مصافحہ ہے اور ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے قول اسم جنس سے ان کی دونوں ہتھیلیاں مراد لی جائیں تو اس صورت میں کا مطلب یہ ہو گا کہ میری دونوں ہتھیلیاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھیں اور جو لوگ دو ہاتھ سے مصافہ کرتے ہیں‘ان کی یہ صورت نہیں ہوتی ۔
لہٰذا اس حدیث سے ان کا استدلال باطل ہے ۔
حنفی مذہب کے جید علماء کو یہ بات مسلم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی ہتھیلی کو اپنی دونوں ہتھیلیوں میں پکڑنا مزیدا ہتمام اور تعلیم کی تاکید کے لیے تھا۔حنفی مذہب کی فقہ کی مشہور داخل نصب کتاب ہدایہ ۱/۹۳کتاب الصلوة کے حاشیہ پر لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا ہاتھ اس لیے تھاما تھا تا کہ ان کا دماغ حاضر رہے اور کوئی چیزان سے فوت نہ ہوجائے۔

علامہ زیلعی حنفی ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے تشہد کی ابنِ عباس رضی اللہ عنہ والے تشہد پر ترجیح ذکر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں :
”ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ والے تشہد پر راجح ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تشہد سکھایا اور میری ہتھیلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلیوں کے درمیان میں تھی اور یہ بات ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کے تشہد میں نہیں ۔
اس نے مزید تو جہ اور اہتمام پر دلالت کی “۔
یہی بات ابنِ ہمام حنفی نے ہدایہ کی شرح فتح القدیر میں لکھی ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کو پکڑنا علی سبیل المصافحہ نہیں تھا بلکہ مزید اہتمام وتاکید کے لیے تھا۔
مولوی عبدالحی لکھوی حنفی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
ابنِ مسعود والی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے وہ مصافحہ جو ملاقات کے وقت کیا جا تا ہے ‘مراد نہیں ہے بلکہ یہ ہاتھ میں ہاتھ لینا ویسا ہے جیسا کہ بزرگ چھوٹوں کو کوئی چیز تعلیم کرنے کے وقت ہاتھ میں ہاتھ لے لیتے ہیں “۔

اور کئی احادیث سے ہاتھ میں ہاتھ پکڑ کر تعلیم دینا ثابت ہے ۔ایک حدیث لکھی جاتی ہے:
”معاذبن جیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑکر کہا ‘اے معاذاللہ کی قسم میں تمہیں دوست رکھتا ہوں میں نے کہا‘اللہ کی قسم میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست رکھتا ہوں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘اے معاذ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑنا “۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ تعلیم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کاہاتھ پکڑ کر اسے سمجھایاجائے تا کہ اس کا دھیان اور توجہ مسئلہ مذکورہ کی طرف ہو۔حنفی حضرات کی مزید تسلی کے لے ایک روایت درج کی جاتی ہے ۔علامہ جلال الدین خوارزمی حنفی ہدایہ کی شریہ کفایہ میں ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ والی ا س حدیث پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث تا کید تعلیم پر محمول ہے ۔
اس لیے کہ محمد بن حسن شیبانی سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور ابو یوسف نے کہا امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور امام ابو حنیفہ نے کہا حمادبن ابی سلیمانی رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا۔امام حماد کہتے ہیں علقمہ رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھا یا ۔
علقمہ کہتے ہیں ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا۔ ابنِ مسعود کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جبرائیل نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا“۔
مذکورہ بالا حنفی روایت سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کا دو ہاتھوں کے ساتھ مصافحہ کرنے سے تعلق نہیں بلکہ یہ طریقہ تعلیم پر محمول ہے جو کہ طالب علم کو مزید تاکید سے اہتمام وتوجہ دلانے کے لیے کیاجاتا ہے ۔
اب تو حنفی حضرات کو اس حدیث سے مروجہ مصافحہ پر
استدلال نہیں کرنا چاہئے بلکہ مذکورہ بالا صحیح احادیث کی رو سے دائیں ہاتھ کے ساتھ مصافحہ کرنا چاہئے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہی ہے اور یہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا عمل ہے ۔
مصافحہ ایک ہاتھ سے یا دونوں ہاتھوں سے مصافحہ ایک ہاتھ سے یا دونوں ہاتھوں سے Reviewed by Unknown on 10:25 PM Rating: 5

Ad Home

ads 728x90 B
Powered by Blogger.